جلا[2]

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ترکِ وطن؛ دیس سے باہر نکالنا، شہر بدر کرنا۔ "بالغرض جس اور جلا بھی سہی مگر غلامی کے واسطے کیا حجت ہے۔"      ( ١٨٧٦ء، رسائل چراغ علی، ٢١٦:١ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اصل لفظ 'جلاّ' ہے اردو میں اس سے ماخوذ 'جلا' مستعمل ہے۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٧٩ء میں "دیوان شاہ سلطان ثانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ترکِ وطن؛ دیس سے باہر نکالنا، شہر بدر کرنا۔ "بالغرض جس اور جلا بھی سہی مگر غلامی کے واسطے کیا حجت ہے۔"      ( ١٨٧٦ء، رسائل چراغ علی، ٢١٦:١ )

اصل لفظ: جلل
جنس: مذکر